10 اشعار

اور پھر یوں ہوگا

Aur Phir Yun Hoga

ہاں یہ آخری صدی ہےاس کے اختتام پر

یہ زمیںسورج کی گرفت سے نکل کر

اندھیروں میں ڈوبتی چلی جائے گیاور کسی تاریک سیارے سے ٹکرا کر

ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی!اور پھر یوں ہوگا

زمیں کے اک ٹکڑے پراک درخت ہوگا

اور اس کی چھاؤں میںاک بھائی

اور اک بہناک دوسرے سے لپٹ کر

سو رہے ہوں گےاور شیطان

ان کے تلوے چاٹ رہا ہوگااور زمیں کا وہ ٹکڑا

اک نئے سورج کے گردچکر کاٹ رہا ہوگا!!

— محمد علوی