5 اشعار

ابھی میں نے اسے دیکھا نہیں ہے

Abhi main ne use dekha nahin hai

ابھی میں نے اسے دیکھا نہیں ہےخدا جانے وہ ہے بھی یا نہیں ہے

اسی دنیا میں خوشیاں ڈھونڈھتا ہوںکروں کیا دوسری دنیا نہیں ہے

یہ دل اندر ہی اندر جل رہا ہےبہت دن ہو گئے رویا نہیں ہے

صبح سے آسماں خالی پڑا ہےپرندہ ایک بھی اڑتا نہیں ہے

میں ایسے شہر میں رہتا ہوں علویؔجہاں پل ہیں مگر دریا نہیں ہے

— محمد علوی