6 اشعار

گھر سے باہر کس بلا کا شور تھا

Ghar se bahar kis bala ka shor tha

گھر سے باہر کس بلا کا شور تھامیرے گھر میں جیسے میں خود چور تھا

میں نے دل میں جھانک کر دیکھا اسےپھر اسی کا عکس چاروں اور تھا

پہلے ناچا اور پھر رونے لگامیرا دل بھی جیسے کوئی مور تھا

گھر کے اندر خاک کھانے کو نہ تھیسرحدوں پر دشمنوں کا زور تھا

میں نے کل رستے میں دیکھا تھا اسےمجھ کو کیا معلوم تھا وہ چور تھا

رات بھر علویؔ کو میں پڑھتا رہایار وہ شاعر تو سچ مچ بور تھا

— محمد علوی