5 اشعار

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے

Abhi to aur bhi din barishon ke aane the

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھےکرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے

حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہدلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے

یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندایہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے

کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسےکچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے

پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علویؔاجاڑ اجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

— محمد علوی