6 اشعار

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں

Gulon ke darmiyan achchhi lagi hain

گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیںہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں

گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھامگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں

نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتیچھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں

حنائی ہاتھ دروازے سے باہراور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں

بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہےکسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں

حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علویؔتبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں

— محمد علوی