9 اشعار

یوں تو کم کم تھی محبت اس کی

Yun to kam kam thi mohabbat us ki

یوں تو کم کم تھی محبت اس کیکم نہ تھی پھر بھی رفاقت اس کی

سارے دکھ بھول کے ہنس لیتا تھایہ بھی تھی ایک کرامت اس کی

الجھنیں اور بھی تھیں اس کے لیےایک میں بھی تھا مصیبت اس کی

پہلے بھی پینے کو جی کرتا تھامل ہی جاتی تھی اجازت اس کی

خواب میں جیسے چلا کرتا ہوںدیکھتا رہتا ہوں صورت اس کی

نام رہتا ہے زباں پر اس کاگھر میں رہتی ہے ضرورت اس کی

اس کی عادت تھی شرارت کرناکاش یہ بھی ہو شرارت اس کی

پھیلتے بڑھتے ہوئے بستر میںڈھونڈھتا رہتا ہوں قربت اس کی

ایک بوسیدہ سا گھر چھوڑ گئیلے گئی ساتھ وہ جنت اس کی

— محمد علوی