5 اشعار

ایسا ہوا نہیں ہے پر ایسا نہ ہو کہیں

Aisa hua nahin hai par aisa na ho kahin

ایسا ہوا نہیں ہے پر ایسا نہ ہو کہیںاس نے مجھے نہ دیکھ کے دیکھا نہ ہو کہیں

قدموں کی چاپ دیر سے آتی ہے کان میںکوئی مرے خیال میں پھرتا نہ ہو کہیں

سنکی ہوئی ہواؤں میں خوشبو کی آنچ ہےپتوں میں کوئی پھول دہکتا نہ ہو کہیں

یہ کون جھانکتا ہے کواڑوں کی اوٹ سےبتی بجھا کے دیکھ سویرا نہ ہو کہیں

علویؔ خدا کے واسطے گھر میں پڑے رہوباہر نہ جاؤ پھر کوئی جھگڑا نہ ہو کہیں

— محمد علوی