6 اشعار

سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا

Sach hai ki woh bura tha har ek se lada kya

سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیالیکن اسے ذلیل کیا یہ برا کیا

گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیںکرسی نے اس کو دیکھ کے آغوش وا کیا

گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیاپھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا

کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اتر پڑےبن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اڑا کیا

اس سے بچھڑتے وقت میں رویا تھا خوب سایہ بات یاد آئی تو پہروں ہنسا کیا

چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی دھرا نہیںآؤ تمہیں بتائیں کہ علویؔ نے کیا کیا

— محمد علوی