6 اشعار

عجب نہیں کہ پھر اک بار میں بدل جاؤں

ajab nahin ke phir ik bar main badal jaun

عجب نہیں کہ پھر اک بار میں بدل جاؤںزمیں سے دور کہیں اور ہی نکل جاؤں

پرانے وقت کا سکہ ہوں مجھ کو پھینک نہ دےبرے دنوں میں یہ ممکن ہے میں بھی چل جاؤں

ترے بدن میں کہیں روشنی کا نام نہیںاتر ہی جاؤں بدن میں ترے میں جل جاؤں

مجھے نہیں تو کسی اور کو تو کاٹے گایہ سانپ ہے تو اسے مار کر نکل جاؤں

خدا گواہ بہت تھک گیا ہوں رو رو کرکوئی تو پیار سے دیکھے کہ میں بہل جاؤں

نہ کام آئے گا یہ گوشت کا بدن علویؔمشینی دور ہے لوہے میں کیوں نہ ڈھل جاؤں

— محمد علوی