8 اشعار

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھی

Aur koī chāra na tha aur koī soorat na thi

اور کوئی چارا نہ تھا اور کوئی صورت نہ تھیاس کے رہے ہو کے ہم جس سے محبت نہ تھی

اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھااپنے سوا آشنا ایک بھی صورت نہ تھی

اس بھری دنیا سے وہ چل دیا چپکے سے یوںجیسے کسی کو بھی اب اس کی ضرورت نہ تھی

اب تو کسی بات پر کچھ نہیں ہوتا ہمیںآج سے پہلے کبھی ایسی تو حالت نہ تھی

سب سے چھپاتے رہے دل میں دباتے رہےتم سے کہیں کس لیے غم تھا وہ دولت نہ تھی

اپنا تو جو کچھ بھی تھا گھر میں پڑا تھا سبھیتھوڑا بہت چھوڑنا چور کی عادت نہ تھی

ایسی کہانی کا میں آخری کردار تھاجس میں کوئی رس نہ تھا کوئی بھی عورت نہ تھی

شعر تو کہتے تھے ہم سچ ہے یہ علویؔ مگرتم کو سناتے کبھی اتنی بھی فرصت نہ تھی

— محمد علوی