5 اشعار

بائیں آنکھ میں تل والے کی زبانی

Baaein Aankh Mein Til Wale Ki Zubani

اپنے خدا کو حاضر جان کےمیں جو کہوں گا سچ ہی کہوں گا

سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گامجھ کو کچھ معلوم نہیں ہے

بس اتنا معلوم ہے صاحبکمرے میں اک لاش پڑی تھی

لاش کے پاس اک شخص کھڑا تھااس کی بائیں آنکھ میں تل تھا

دودھ سے اجلا اس کا دل تھاسب کہتے ہیں وہ قاتل تھا!

— محمد علوی