6 اشعار

برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر

BarsoN Ghisa PiTa Hua Darwaza ChhoR Kar

برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کرنکلوں نہ کیوں مکان کی دیوار توڑ کر

پانی تو اب ملے گا نہیں ریگزار میںموقع ہے خوب دیکھ لو دامن نچوڑ کر

اب دوستوں سے کوئی شکایت نہیں رہیدن بھی چلا گیا مجھے جنگل میں چھوڑ کر

تعمیر سے بلند ہے تخریب کا مقاماک سے ہزار ہو گیا آئینہ توڑ کر

اپنے بدن کے ساتھ رہوں تو عذاب ہےمر جاؤں گا میں جاؤں اگر اس کو چھوڑ کر

کیوں سر کھپا رہے ہو مضامیں کی کھوج میںکر لو جدید شاعری لفظوں کو جوڑ کر

— محمد علوی