9 اشعار

اس کی بات کا پاؤں نہ سر

Uski baat ka paon na sar

اس کی بات کا پاؤں نہ سرپھر بھی چرچا ہے گھر گھر

چیل نے انڈا چھوڑ دیاسورج آن گرا چھت پر

اچھا تو شادی کر لیجا اب بچے پیدا کر

لے یہ پتھر ہاتھ میں لےمار اسے میرے سر پر

پھوہڑ اس مہنگائی میںآٹا تو گیلا مت کر

میرے پتے دیکھ ذرادو اکے اور اک جوکر

اس کا ٹیڑھا اونٹ نہ دیکھاپنا الو سیدھا کر

بیوی اکیلی ڈرتی ہےشام ہوئی اب چلیے گھر

علویؔ عادلؔ اور ظفرؔتینوں کے تینوں اندر

— محمد علوی