6 اشعار

بھید کچھ کھلتا نہیں دیوار و در میں کون ہے

bhed kuch khulta nahin deewar-o-dar mein kaun hai

بھید کچھ کھلتا نہیں دیوار و در میں کون ہےگھر سے بے گھر ہو گیا ہوں میرے گھر میں کون ہے

سب کے سب پاگل نظر آتے ہیں مجھ کو شہر میںمیرے جیسا اور پاگل شہر بھر میں کون ہے

حق بہ جانب کون ہے اب آپ ہی بتلائیےمیں نہیں بتلاؤں گا میری نظر میں کون ہے

دل کے ملبے میں پڑا ہے اور چلاتا نہیںڈوبتا ہے اور چپ ہے چشم تر میں کون ہے

کون اپنا گھر اٹھائے پھر رہا ہے در بدرگھر میں بیٹھا ہے مگر ہر دم سفر میں کون ہے

سوچتا رہتا ہوں علویؔ پر سمجھ پاتا نہیںمیں نہیں تو اس بلا کے شور و شر میں کون ہے

— محمد علوی