6 اشعار

سایا سایا راہ میں بکھرا ہوا

saya saya rah mein bikhra hua

سایا سایا راہ میں بکھرا ہواایک چہرہ جا بجا بنتا ہوا

دور تک بے کار سی اک دوپہراک پرندہ بے سبب اڑتا ہوا

سوچتے ہیں رک ہی جائے گا کہیںآخری لمحہ قریب آتا ہوا

دھڑکنوں سے کچھ پتہ چلتا نہیںکون ہے دل میں سفر کرتا ہوا

رات پھر میں اپنے بستر میں نہ تھاتھا اندھیروں میں کہیں گرتا ہوا

پھر طبیعت میں روانی آ گئیمل گیا علویؔ غزل کہتا ہوا

— محمد علوی