5 اشعار

بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیں

Bina murghay ke par jhatakti hain

بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیںمرغیاں در بہ در بھٹکتی ہیں

نظم اترائے تو بجا بھی ہےبی غزل کس لیے مٹکتی ہیں

ایک حاسد کی ایک ناقد کیسر پہ تلواریں دو لٹکتی ہیں

یہ بھی شاعر ہیں ان کے بالوں میںفکر و فن کی جوئیں بھٹکتی ہیں

علویؔ یہ گولیاں ہیں شہرت کییہ گلے میں کہاں اٹکتی ہیں

— محمد علوی