8 اشعار

اٹھتے ہوئے قدموں کی دھمک آنے لگی ہے

Uthte hue qadmon ki dhamak aane lagi hai

اٹھتے ہوئے قدموں کی دھمک آنے لگی ہےپو پھٹنے سے پہلے ہی گلی جاگ اٹھی ہے

عاشق ہو تو چوروں میں بھی اب نام لکھاؤدروازہ بھلے بند ہے کھڑکی تو کھلی ہے

لوگ اپنے مکانوں کی طرف بھاگ رہے ہیںگھر والوں پہ جیسے کوئی افتاد پڑی ہے

اے باد صبا کس لیے پھرتی ہے پریشاںکیا تو بھی اسی پھول کی ٹھکرائی ہوئی ہے

آ گردش دوراں تجھے سینے سے لگا لوںاب تک تو مری جاں تو مرے ساتھ رہی ہے

اب آئے ہو دنیا میں تو یوں منہ نہ بگاڑودو روز تو رہنا ہے بری ہے تو بری ہے

بازار کے داموں کی شکایت ہے ہر اک کوپھر بھی سر بازار بڑی بھیڑ لگی ہے

کانٹے کی طرح سوکھ کے رہ جاؤ گے علویؔچھوڑو یہ غزل گوئی یہ بیماری بری ہے

— محمد علوی