5 اشعار

بجھے بجھے باہر رہتے ہیں

Bujhe bujhe bahar rehte hain

بجھے بجھے باہر رہتے ہیںگھر میں آ کر مر رہتے ہیں

خوابوں کا اک شہر ہے جس میںطرح طرح کے ڈر رہتے ہیں

ایک ذرا سا دل ہے اپنالوگ اس میں کیوں کر رہتے ہیں

اک جیسے دن رات ہیں پھر بھیروز نئے چکر رہتے ہیں

آپ اگر ملنا چاہیں توشام کو علویؔ گھر رہتے ہیں

— محمد علوی