6 اشعار

سمندر میں سہارا رکھ لیا ہے

Samundar mein sahara rakh liya hai

سمندر میں سہارا رکھ لیا ہےسفینہ میں کنارہ رکھ لیا ہے

تری باتیں وہیں پر چھوڑ دی ہیںفقط تیرا اشارہ رکھ لیا ہے

ستارے گنتے گنتے آخر شبچرا کے اک ستارہ رکھ لیا ہے

سفر میں آبشار آیا تو ہم نےتھکن جھاڑی نظارہ رکھ لیا ہے

جسے رکھ کر بہت پچھتائے تھے ہماسے ہم نے دوبارہ رکھ لیا ہے

منافع خرچ کر ڈالا ہے علویؔبڑھاپے میں خسارہ رکھ لیا ہے

— محمد علوی