4 اشعار

چاک کر لو اگر گریباں ہے

Chaak kar lo agar gireban hai

چاک کر لو اگر گریباں ہےدوستو موسم بہاراں ہے

دل ہے پیاسا حسین کے مانندیہ بدن کربلا کا میداں ہے

کتنا مشکل ہے زندگی کرنااور نہ سوچو تو کتنا آساں ہے

سن چھہتر سے مل لو جی بھر کےجی لیے کیسے عقل حیراں ہے

— محمد علوی