5 اشعار

دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے

dhoop mein sab rang gehre ho gaye

دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئےتتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے

سامنے دیوار پر کچھ داغ تھےغور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے

اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکارسنتے سنتے کان بہرے ہو گئے

اب کسی کی یاد بھی آتی نہیںدل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے

آؤ علویؔ اب تو اپنے گھر چلیںدن بہت دلی میں ٹھہرے ہو گئے

— محمد علوی