8 اشعار

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

koi mausam ho bhale lagte the

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھےدن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے

خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکنیوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے

روز کے دیکھے ہوئے منظر تھےپھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے

ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھاسارے دروازے گلے لگتے تھے

رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاںلوگ پہچانے ہوئے لگتے تھے

جھیلیں پانی سے بھری رہتی تھیںسب کے سب پیڑ ہرے لگتے تھے

شہر تھے اونچی فصیلوں والےڈر زمانے کے پرے لگتے تھے

باندھ رکھا تھا زمیں نے علویؔہم مگر پھر بھی اڑے لگتے تھے

— محمد علوی