5 اشعار

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

Din bhar ke dahakte hue sooraj se laḍā huñ

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوںاب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں

اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوںآواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں

رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھودیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں

یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہےاک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں

تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے کدھر ہےعلویؔ مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

— محمد علوی