6 اشعار

دکھ کا احساس نہ مارا جائے

Dukh ka ehsās na mārā jaaye

دکھ کا احساس نہ مارا جائےآج جی کھول کے ہارا جائے

ان مکانوں میں کوئی بھوت بھی ہےرات کے وقت پکارا جائے

سوچنے بیٹھیں تو اس دنیا میںایک لمحہ نہ گزارا جائے

ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سییہ بدن جس میں اتارا جائے

ساتھ چلتا ہوا سایہ اپناایک پتھر اسے مارا جائے

ہم یگانہ تو نہیں ہیں علویؔناؤ جائے کہ کنارا جائے

— محمد علوی