9 اشعار

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

Din ek ke baad ek guzarte hue bhi dekh

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھاک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ

ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کرمرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ

ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پرتپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ

اپنوں میں رہ کے کس لیے سہما ہوا ہے توآ مجھ کو دشمنوں سے نہ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ

پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بہ جابگلوں کو آسمان کترتے ہوئے بھی دیکھ

حیران مت ہو تیرتی مچھلی کو دیکھ کرپانی میں روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ

اس کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کیآئینہ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ

دیکھا نہ ہوگا تو نے مگر انتظار میںچلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ

تعریف سن کے دوست سے علویؔ تو خوش نہ ہواس کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ

— محمد علوی