3 اشعار

ڈریکولا

Dracula

کمرے کی دیوار توڑ کر میرے سامنے آیا تھااپنا سینہ چیر کے مجھ کو اپنا خون پلایا تھا

چمگادڑ سا اڑا کھلی کھڑکی سے باہر پہنچا تھاآنکھ سے اوجھل ہوا نہیں اور میرے اندر پہنچا تھا

اس کے لیے میں روز رات کو خون چوس کر لاتا ہوں

— محمد علوی