6 اشعار

سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے

Sukhāne bāl hi koṭhe pe aa gaye hote

سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتےاسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے

تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتانکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے

گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتاذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے

ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نےوگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے

بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایاستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے

جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکنہوا کے جھونکے دیا تو بجھا گئے ہوتے

— محمد علوی