6 اشعار

دکھ تو ہر گھر میں جاتا ہے

Dukh to har ghar mein jata hai

دکھ تو ہر گھر میں جاتا ہےہر گھر سے اس کا ناطہ ہے

ایک سے اک مل جاتا ہے توسکھ دیتا ہے سکھ پاتا ہے

راتوں کو دریا میں اتر کےچاند کسے ملنے آتا ہے

چھوڑ کے اپنا عکس پرندہپیاس بجھا کے اڑ جاتا ہے

یہ میرا سایہ تو نہیں ہےمیرے پیچھے کیوں آتا ہے

کس کو مار رکھا ہے علویؔکون یہ غزلیں بھجواتا ہے

— محمد علوی