7 اشعار

کوئی ہے پر نظر آتا نہیں ہے

Koi hai par nazar aata nahin hai

کوئی ہے پر نظر آتا نہیں ہےغنیمت ہے وہ گھر آتا نہیں ہے

غضب کی دھوپ ہے اور راستے میںکہیں کوئی شجر آتا نہیں ہے

خوشی سے کب کوئی جاتا ہے پھر بھیکوئی کیوں لوٹ کر آتا نہیں ہے

خیالوں میں گھرا رہتا ہوں ہر دمخیال اپنا مگر آتا نہیں ہے

بلاتا کیوں نہیں مجھ کو فلک پرستارہ کیوں اتر آتا نہیں ہے

پھرا کرتا ہے سارے شہر میں وہمیں کہتا ہوں ادھر آتا نہیں ہے

غزل میں کیا ملا دیتے ہو علویؔمزہ آتا ہے پر آتا نہیں ہے

— محمد علوی