14 اشعار

ایک بچہ

Ek Bachcha

آج سے پہلے میرا گھرسویا سویا رہتا تھا

سورج روز نکلتا تھاروز سویرا ہوتا تھا

آنگن میں دیواروں پردھوپ چمکتی رہتی تھی

گھر کی اک اک کھڑکی میںنور کی ندی بہتی تھی

سارا سارا دن چھت پرکاگے شور مچاتے تھے

نل نیچے پانی پینےروز کبوتر آتے تھے

دروازے پر دستک کیمہریں چمکا کرتی تھیں

سرد ہوائیں پردوں میںٹھنڈی آہیں بھرتی ہیں

ادھر ادھر جاتی گلیاںدھوم مچایا کرتی تھیں

ان جانے جانے بوجھےگیت سنایا کرتی تھیں

لیکن پھر بھی میرا گھرسویا سویا رہتا تھا!

گھر کا اک اک دروازہکھویا کھویا رہتا تھا!

آج مگر اک نو واردبچے کا رونا سن کر

چونک پڑے دیوار و درجاگ اٹھا ہے میرا گھر

— محمد علوی