9 اشعار

اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی

Ek ladka tha ek ladki thi

اک لڑکا تھا اک لڑکی تھیآگے اللہ کی مرضی تھی

پہلا پھول کھلا تھا دل میںلہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی

اب کیا جانے لیکن پہلےچاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی

یہ بازار کہاں تھا پہلےیہاں تو پہلے ایک گلی تھی

پانی میں بجلی کا گھر تھاپتھر میں چنگاری چھپی تھی

اک بچہ پیدل جاتا تھارستے میں اک کار کھڑی تھی

ایک پیڑ تھا ہرا بھرا ساپیڑ کے اندر اک کرسی تھی

دونوں رنگوں کے مارے تھےایک پھول تھا اک تتلی تھی

سچ ہے اس کے شہر میں علویؔدن چھوٹا تھا رات بڑی تھی

— محمد علوی