5 اشعار

ایک سنسان رستہ پہ چلتے ہوئے

Ek sunsan rasta pe chalte hue

ایک سنسان رستہ پہ چلتے ہوئےیاد آئی تری شام ڈھلتے ہوئے

اپنی اپنی جگہ جھلملانے لگےایک اک کر کے تارے نکلتے ہوئے

خواب کی بستیاں دور تو تھیں مگرہم بھی جا پہنچے گرتے سنبھلتے ہوئے

ٹرین میں لوگ حیرت سے دیکھا کیےکھڑکیوں میں تھے منظر بدلتے ہوئے

تم کو علویؔ کہاں سے کہاں لائے ہیںوقت کے ساتھ موسم بدلتے ہوئے

— محمد علوی