7 اشعار

رات بیمار ستاروں سے بھری رہتی ہے

Raat bimar sitaron se bhari rahti hai

رات بیمار ستاروں سے بھری رہتی ہےدن کی قسمت میں وہی درد سری رہتی ہے

پھول کھلتا ہے نہ پتہ کوئی شرماتا ہےشاخ امید کی کانٹوں سے بھری رہتی ہے

جن کی راہیں بھی نہیں اور کوئی منزل بھی نہیںان بگولوں سے مری ہم سفری رہتی ہے

ہم بھی غنچے ہیں ہمیں بھی تو ابھی کھلنا ہےدور کیوں ہم سے نسیم سحری رہتی ہے

جام میں اپنا ہی چہرہ نظر آیا ہم کولوگ کہتے ہیں یہاں لال پری رہتی ہے

پاس بھی ہوں تو ہمیں ہوش کہاں رہتا ہےدور بھی ہوں تو وہی بے خبری رہتی ہے

ہم بھی دیکھیں گے کہاں تک وہ چھپیں گے علویؔاور کب تک یہ پریشاں نظری رہتی ہے

— محمد علوی