6 اشعار

پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھی

Pukarta hun pada regzar mein ab bhi

پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھیکوئی تو ہوگا مرے انتظار میں اب بھی

لرزتا ہاتھ بھری آنکھ غم زدہ چہرہدکھائی دیتے ہیں مجھ کو غبار میں اب بھی

ہر ایک چیز سے اکتا گیا ہے دل اپناوہی کشش ہے مگر حسن یار میں اب بھی

مجھے پتہ ہے وہ کب کی چلی گئی ہوگیکھڑا ہوا ہوں میں بس کی قطار میں اب بھی

ذرا ٹھہر میں ابھی توڑ پھوڑ ڈالوں گایہ کائنات ہے میرے حصار میں اب بھی

زمانہ ہو گیا تم سے ملے ہوئے علویؔتمہارا نام ہے یاروں کے یار میں اب بھی

— محمد علوی