10 اشعار

گھر

Ghar

اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھیگھر کی اک اک چیز سے مجھ کو نفرت ہے

گھر والے سب کے سب میرے دشمن ہیںجیل سے ملتی جلتی گھر کی صورت ہے

ابا مجھ سے روز یہی فرماتے ہیں''کب تک میرا خون پسینہ چاٹو گے''

اماں بھی ہر روز شکایت کرتی ہیں''کیا یہ جوانی پڑے پڑے ہی کاٹو گے''

بھائی کتابوں کو روتا رہتا ہے سدابہنیں اپنا جسم چرائے رہتی ہیں

میلے کپڑے تن پہ داغ لگاتے ہیںبھیگی آنکھیں جانے کیا کیا کہتی ہیں

چولھے کو جی بھر کے آگ نہیں ملتیکپڑوں کو صندوق ترستے رہتے ہیں

دروازہ کھڑکی منہ کھولے تکتے ہیںدیواروں پر بھتنے ہنستے رہتے ہیں

اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھیروز یہی میں سوچ کے گھر سے جاتا ہوں

سب رستے ہر پھر کے واپس آتے ہیںروز میں اپنے آپ کو گھر میں پاتا ہوں!

— محمد علوی