6 اشعار

شانتی کی دکانیں کھولی ہیں

Shaanti ki dukanein kholi hain

شانتی کی دکانیں کھولی ہیںفاختائیں کہاں کی بھولی ہیں

کیسی چپ سادھ لی ہے کوؤں نےجیسے بس کوئلیں ہی بولی ہیں

رات بھر اب اودھم مچائیں گےخواہشیں دن میں خوب سو لی ہیں

چل پڑے ہیں کٹے پھٹے جذبےحسرتیں ساتھ ساتھ ہو لی ہیں

کون قاتل ہے کیا پتہ چلتاسب نے اپنی قبائیں دھو لی ہیں

شعر ہوتے نہیں تو علویؔ نےخون میں انگلیاں ڈبو لی ہیں

— محمد علوی