7 اشعار

یکہ الٹ کے رہ گیا گھوڑا بھڑک گیا

Yakka palat ke reh gaya, ghoda bhadak gaya

یکہ الٹ کے رہ گیا گھوڑا بھڑک گیاکالی سڑک پہ چاند سا چہرہ چمک گیا

دیکھا اسے تو آنکھ سے پردہ سرک گیاشعلہ سا ایک جسم کے اندر لپک گیا

باہر گلی میں کھل گئیں کلیاں گلاب کیجھونکا ہوا کا آتے ہی کمرہ مہک گیا

مجھ پر نظر پڑی تو وہ شرما کے رہ گئیپہلو سے اس کے اون کا گولا لڑھک گیا

کوشش کے باوجود میں باہر نہ آ سکااندر کا سلسلہ تو بہت دور تک گیا

میں نے ہی اس کو قتل کیا تھا یہ سچ ہے پرسچ سچ بتاؤں میرا بھی اک اک پہ شک گیا

علویؔ نے آج دن میں کہانی سنائی تھیشاید اسی وجہ سے میں رستہ بھٹک گیا

— محمد علوی