6 اشعار

گرہ میں رشوت کا مال رکھیے

Girah mein rishwat ka maal rakhiye

گرہ میں رشوت کا مال رکھیےضرورتوں کو بحال رکھیے

بچھائے رکھیے اندھیرا ہر سوستارہ کوئی اچھال رکھیے

ارے یہ دل اور اتنا خالیکوئی مصیبت ہی پال رکھیے

جہاں کہ بس اک طلسم سا ہےنہ ٹوٹ جائے خیال رکھیے

تڑا مڑا ہے مگر خدا ہےاسے تو صاحب سنبھال رکھیے

تمام رنجش کو دل سے علویؔوہ آ رہا ہے نکال رکھیے

— محمد علوی