11 اشعار

وہ دن کتنا اچھا تھا

Woh Din Kitna Achha Tha

وہ دن کتنا اچھا تھامیں جی بھر کے رویا تھا

ہوا ٹھمک کے چلتی تھیہاتھوں میں گلدستہ تھا

ہوک سی اٹھتی تھی دل میںاونچا نیچا رستہ تھا

یہی پیڑ تھے پہلے بھییہیں کہیں اک چشمہ تھا

چشمے کا سویا پانیمجھ دیکھ کے چونکا تھا

پانی چھوڑ کے اک گیدڑاک جھاڑی میں لپکا تھا

دو مینڈک ٹرائے تھےایک پرندہ چیخا تھا

اک کچھوا اک پتھر پرپتھر بن کے بیٹھا تھا

میں پانی میں اترا توپانی زور سے اچھلا تھا

پہلے بھی اس جنگل سےایک بار میں گزرا تھا

لیکن پہلی بار علویؔیاد نہیں کیا سوچا تھا

— محمد علوی