6 اشعار

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں

Irāda hai kisi jangal mein ja rahūñgā maiñ

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میںتمہارا نام ہر اک پیڑ پر لکھوں گا میں

ہر ایک پیڑ پہ چڑھ کے تمہیں پکاروں گاہر ایک پیڑ کے نیچے تمہیں ملوں گا میں

ہر ایک پیڑ کوئی داستاں سنائے گاسمجھ نہ پاؤں گا لیکن سنا کروں گا میں

تمام رات بہاروں کے خواب دیکھوں گاگرے پڑے ہوئے پتوں پہ سو رہوں گا میں

اندھیرا ہونے سے پہلے پرندے آئیں گےاجالا ہونے سے پہلے ہی جاگ اٹھوں گا میں

تمہیں یقین نہ آئے تو کیا ہوا علویؔمجھے یقین ہے ایسے بھی جی سکوں گا میں

— محمد علوی