11 اشعار

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں

Hazaron lakhon Dilli mein makan hain

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیںمگر پہچاننے والے کہاں ہیں

کہیں پر سلسلہ ہے کوٹھیوں کاکہیں گرتے کھنڈر ہیں نالیاں ہیں

کہیں ہنستی چمکتی صورتیں ہیںکہیں مٹتی ہوئی پرچھائیاں ہیں

کہیں آواز کے پردے پڑے ہیںکہیں چپ میں کئی سرگوشیاں ہیں

قطب صاحب کھڑے ہیں سر جھکائےقلعے پر گدھ بہت ہی شادماں ہیں

ارے یہ کون سی سڑکیں ہیں بھائییہاں تو لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں

لکھا ملتا ہے دیواروں پہ اب بھیتو کیا اب بھی وہی بیماریاں ہیں

حوالوں پر حوالے دے رہے ہیںیہ صاحب تو کتابوں کی دکاں ہیں

مرے آگے مجھی کو کوستے ہیںمگر کیا کیجیے اہل زباں ہیں

دکھایا ایک ہی دلی نے کیا کیابرا ہو اب تو دو دو دلیاں ہیں

یہاں بھی دوست مل جاتے ہیں علویؔیہاں بھی دوستوں میں تلخیاں ہیں

— محمد علوی