5 اشعار

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

Har chand jāgte hain pe soye hue se hi hain

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیںسب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں

میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوںمنظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں

محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کرجیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں

اک ڈور ہی ہے دن کی مہینوں کی سال کیاس میں کہیں پہ ہم بھی پروئے ہوئے سے ہیں

علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کاسارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

— محمد علوی