7 اشعار

آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

Office mein bhi ghar ko khula paata hoon main

آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میںٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں

گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوںاک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں

اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوںاس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں

بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھیبس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں

مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیںٹھہر ذرا گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں

گاڑی آتی ہے لیکن آتی ہی نہیںریل کی پٹری دیکھ کے تھک جاتا ہوں میں

علویؔ پیارے سچ سچ کہنا کیا اب بھیاسی کو روتا دیکھ کے یاد آتا ہوں میں

— محمد علوی