6 اشعار

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

is shahr mein kahin pe hamara makan bhi ho

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہوبازار ہے تو ہم پہ کبھی مہرباں بھی ہو

جاگیں تو آس پاس کنارا دکھائی دےدریا ہو پر سکون کھلا بادباں بھی ہو

اک دوست ایسا ہو کہ مری بات بات کوسچ مانتا ہو اور ذرا بد گماں بھی ہو

رستے میں ایک پیڑ ہو تنہا کھڑا ہوااور اس کی ایک شاخ پہ اک آشیاں بھی ہو

اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھیدل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو

ہم اس جگہ چلے ہیں جہاں یہ زمیں نہیںاچھا ہو گر وہاں پہ نیا آسماں بھی ہو

— محمد علوی