7 اشعار

کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا

kal raat sooni chhat pe ajab saneha hua

کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہواجانے دو یار کون بتائے کہ کیا ہوا

نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیںساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا

لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھاپلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا

مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہےتجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا

دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھےسورج بھی تھا ملول زمیں پر جھکا ہوا

کیا ظلم ہے کہ شہر میں رہنے کو گھر نہیںجنگل میں پیڑ پیڑ پہ تھا گھر بنا ہوا

علویؔ غزل کا خبط ابھی کم نہیں ہواجائے گا جی کے ساتھ یہ ہوکا لگا ہوا

— محمد علوی