6 اشعار

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا

Jate jate dekhna patthar mein jaan rakh jaunga

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گاکچھ نہیں تو ایک دو چنگاریاں رکھ جاؤں گا

نیند میں بھی خواب رکھنے کی جگہ باقی نہیںسوچتا ہوں یہ خزانہ اب کہاں رکھ جاؤں گا

سب نمازیں باندھ کر لے جاؤں گا میں اپنے ساتھاور مسجد کے لیے گونگی اذاں رکھ جاؤں گا

جانتا ہوں یہ تماشہ ختم ہونے کا نہیںہال میں اک روز خالی کرسیاں رکھ جاؤں گا

چاند سورج اور تارے پھونک ڈالوں گا سبھیاس زمیں پر ایک ننگا آسماں رکھ جاؤں گا

چھوڑ دوں گا اب میں علویؔ آخری دن کی تلاشاور ادب کے شہر میں خالی مکاں رکھ جاؤں گا

— محمد علوی