6 اشعار

کوئی بینڈ باجا سا کانوں میں تھا

Koi band baja sa kaanon mein tha

کوئی بینڈ باجا سا کانوں میں تھاعجب شور اونچے مکانوں میں تھا

پڑا تھا میں اک پیڑ کی چھاؤں میںلگی آنکھ تو آسمانوں میں تھا

برہنہ بھٹکتا تھا سڑکوں پہ میںلباس ایک سے اک دکانوں میں تھا

نظر میرے چہرے پہ مرکوز تھیدھیان اس کا ٹیبل کے خانوں میں تھا

زمیں چھوڑنے کا انوکھا مزاکبوتر کی اونچی اڑانوں میں تھا

مجھے مار کے وہ بھی روتا رہاتو کیا وہ میرے مہربانوں میں تھا

— محمد علوی