10 اشعار

روشنی کچھ تو ملے جنگل میں

Roshni kuchh to mile jangal mein

روشنی کچھ تو ملے جنگل میںآگ لگ جائے گھنے جنگل میں

آپ کو شہر میں ڈر لگتا ہےہم تو بے خوف رہے جنگل میں

ایک اک شاخ زباں ہو جائےکوئی آواز تو دے جنگل میں

پیڑ سے پیڑ لگا رہتا ہےپیار ہوتا ہے بھرے جنگل میں

شہر میں کان ترستے ہی رہےچہچہے ہم نے سنے جنگل میں

شام ہوتے ہی اتر آتے ہیںشوخ پریوں کے پرے جنگل میں

شوخ ہرنوں نے قلانچیں ماریںمور کے رقص ہوئے جنگل میں

اب بھی قدموں کے نشاں ملتے ہیںگاؤں سے دور پرے جنگل میں

اب بھی پھرتی ہے کوئی پرچھائیںرات کے وقت بھرے جنگل میں

خوب تھے حضرت آدم علویؔبستیاں چھوڑ گئے جنگل میں

— محمد علوی