7 اشعار

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

main apna naam tere jism par likha dekhun

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوںدکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں

پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئےپھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں

گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤںہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں

کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائےقلم اٹھاؤں تو کاغذ کو پھیلتا دیکھوں

اتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیصبدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں

وہیں کہیں نہ پڑی ہو تمنا جینے کیپھر ایک بار انہیں جنگلوں میں جا دیکھوں

وہ روز شام کو علویؔ ادھر سے جاتی ہےتو کیا میں آج اسے اپنے گھر بلا دیکھوں

— محمد علوی