6 اشعار

کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھا

Kabhi Tujh Se Aisa Bhi Yarana Tha

کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھامصلے سے اٹھنا گوارا نہ تھا

یوں ہی اس طرف ہم چلے آئے تھےکسی نے بھی ہم کو پکارا نہ تھا

وہ اک موج تھی سر اٹھاتی ہوئیکہیں کیسے دل سے کنارا نہ تھا

چمک جس کی کل شب مزا دے گئیکہیں آج کی شب وہ تارا نہ تھا

بہت خوش ہوئے آئینہ دیکھ کریہاں کوئی ثانی ہمارا نہ تھا

سحر ہو رہی تھی مگر رات نےلباس عروسی اتارا نہ تھا

— محمد علوی